رمضان اور حکومت کی نمک پاشی

مقدس مذہبی تہوار ہر قوم کے لیے ان کے عقائد و عبادات کے حوالے سے ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتے ہیں۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے اور ایمان کے مطابق مذہبی احترام کے ساتھ اپنے تہواروں کو مناتے ہیں۔  دنیا کی تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ رمضان المبارک مسلمانوں کا ایک خاص مذہبی تہوار ہے، روزہ تقویٰ، پرہیزگاری اور تزکیہ نفس کی علامت ہے۔ اس ماہ مقدس کا سب سے عظیم تحفہ نزول قرآن ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کے لیے راہ ہدایت اور مکمل طور پر ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کر کے لوگ نجات کی منزل پا سکتے ہیں۔ رمضان المبارک کے آغاز سے چار روز پیشتر ہی مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ کرکے کروڑوں غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرا دیا۔ پاکستان میں رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں غریبوں کی مشکلات میں غیر متوقع اضافہ ہو جاتا ہے۔ مہنگائی و گرانی کا جن یک دم بوتل سے باہر آ جاتا ہے غریب آدمی سحری و افطاری کا اہتمام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ گوشت، سبزی، دالیں، انڈے، دودھ، دہی اور سب سے بڑھ کر پھل فروخت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ منافع خور ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جاتی ہیں۔ حکومت دعوے کرتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران مہنگائی کنٹرول کرنے اور تمام اشیا ضرورت کی چیزوں کے نرخوں کو قابو رکھنے کے لیے بھرپور اور فول پروف انتظامات کرے گی تاکہ غریب آدمی بھی باآسانی روزوں کی برکتوں اور نعمتوں سے فیض یاب ہو سکے لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ موجودہ حکومت نے تو انتہا کر دی، آغاز رمضان سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی میں اضافہ کر دیا۔ کیوں کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی بجلی، گیس، ڈیزل، پٹرول، مٹی کے تیل اور توانائی و ایندھن سے متعلق اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو چیزوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جس کا براہ راست اثر اشیا خور و نوش اور روز مرہ استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ حکومت کو رمضان المبارک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ رمضان تو نیکیاں کمانے اور آسانیاں فراہم کرنے کا مہینہ ہے جیسا کہ خود وزیر اعظم شہباز شریف نے 38 ارب رمضان پیکیج کا اعلان کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ صرف بدنی عبادات نہیں بلکہ یہ وسائل تقسیم کرنے کا مہینہ ہے، حکومت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ 21 لاکھ خاندانوں تک 13 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 38 ارب روپے کسی سیاسی تفریق کے بغیر تقسیم کرے گی۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کل آبادی کا 44 فی صد سے بھی زائد ہے۔ گویا 24 کروڑ کی ملکی آبادی میں غریب افراد کی تعداد تقریباً 11 کروڑ سے بھی زائد ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی کمیابی کے باعث ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں کے غیر منتظم نظام کے باعث سیکڑوں صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ کار عرب ممالک میں سرمایہ کاری کو فوقیت دے رہے ہیں جس کے باعث ملک میں بے روزگاری کا گراف بڑھتا جا رہا ہے اور غربت میں اضافے کے باعث غریب لوگوں کی تعداد آیندہ ایک دو سال میں 50 فی صد سے تجاوزکرجائے گی۔ جو ارباب حکومت کے لیے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ صرف ایک کروڑ لوگوں کو محض 13 ہزار روپے کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ایک طرف ملک میں غربت و بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگوں کے لیے رمضان کے مقدس مہینے میں سحر و افطار کا انتظام کرنا عذاب جاں بن گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نہ صرف گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اپنے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اپنے اللوں تللوں پر خرچ کر رہی ہے۔ تازہ خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے 10 ارب روپے کا ایک طیارہ خریدا ہے جسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جاری کردہ غربت کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ اور پنجاب میں غربت میں ماضی کی نسبت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کو کفایت شعاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے نہ کہ فضول خرچیاں اور گرانی میں اضافہ غریب لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔

from The Express News https://ift.tt/xu0gCR2
Previous Post Next Post

Contact Form