سانحہ سیف اللہ جھیل حادثہ کشتی کا جنریٹر بند ہونےکیوجہ سے پیش آیا

کالام کے سیاحتی مقام جھیل سیف اللہ میں کشتی ڈوبنے کے افسوسناک حادثے پر کے پی حکومت نے تحقیقات کا حکم دے دیا جبکہ ابتدائی رپورٹ میں افسوسناک انکشافات ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سوات کی وادی کالام کی جھیل سیف اللہ میں سیاحوں کے ڈوبنے کے واقعے پر  خیبرپختونخوا حکومت ایکشن میں آگئی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دے دیا۔  ابتدائی تحقیقات کے مطابق جھیل میں کشتی کا جنریٹر اچانک بند ہوگیا تھا جس کے باعث حادثہ پیش آیا، جبکہ صوبائی حکومت نے ایمبولینس میں ایندھن ختم ہونے کی تحقیقات بھی شروع کردیں۔ چیف سیکریٹری نے کمشنر سوات سے دریافت کیا کہ جھیل میں کشتی کے سفر کے دوران سیاحوں کو حفاظتی جیکٹس دی گئیں یا نہیں؟ صوبائی حکومت نے سیاحوں کے ڈوبنے کے ریسکیو آپریشن کی بھی تفصیلات صوبائی حکومت نے طلب کر لیں۔  رپورٹ کے مطابق کشتی میں سوار فیملی ریٹائرڈ نیوی آفیسر کی تھی جن کا تعلق پنجاب سے تھا۔  دوسری جانب کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد کی زیرِ صدارت سیف اللہ جھیل، کالام کے افسوسناک واقعہ کے تناظر میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر اپر سوات، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) سوات، ریجنل ڈائریکٹر آپریشنز ریسکیو 1122, اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن یو ایس ڈی اے، تحصیل میونسپل آفیسر بحرین، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 سوات نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز سیف اللہ جھیل، کالام میں پیش آنے والے المناک حادثے میں جاں بحق افراد کی بلند درجات، اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل، اور لاپتہ فرد کی جلد اور بحفاظت بازیابی کے لیے خصوصی دعا  سے ہوا۔ ڈپٹی کمشنر بر سوات نے اجلاس کو حادثہ کی ریسکیو اور ریسکیو آپریشن پر بریفنگ دی اور بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اپر سوات، ریسکیو 1122 کے غوطہ خوروں اور رضاکاروں کی جانب سے سرچ آپریشن جاری ہے۔ کمشنر ملاکنڈ نے ڈپٹی کمشنرز اپر سوات و سوات، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات، ڈائریکٹر جنرل یو ایس ڈی اے، ریجنل میونسپل آفیسر اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 کو ہدایت کی کہ وہ سیاحوں کے رش کے مطابق اہم سیاحتی مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے جامع رپورٹ اور قابلِ عمل سفارشات تیار کرکے کمشنر آفس ملاکنڈ ڈویژن کو ارسال کریں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات تمام دریاؤں، ندی نالوں، جھیلوں اور دیگر آبی مقامات پر لائف جیکٹ کے بغیر کشتی رانی پر مکمل پابندی کو یقینی بنائیں۔ مزید برآں کشتی مالکان اور آپریٹرز کی جانب سے حکومتِ خیبر پختونخوا کے جاری کردہ تمام حفاظتی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔  کمشنر ملاکنڈ نے ضلعی انتظامیہ اپر سوات اور سوات، یو ایس ڈی اے کے اشتراک سے مون سون سیزن کے دوران سیاحوں کو موسم کی تازہ صورتحال اور حفاظتی ہدایات سے مسلسل آگاہ رکھنے کے لیے مؤثر نظام وضع کریں۔ یو ایس ڈی اے اور متعلقہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (TMAs) کو ہدایت کی گئی کہ دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر حساس مقامات پر انتباہی اور حفاظتی پیغامات نصب کیے جائیں تاکہ سیاحوں میں احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی کو فروغ دیا جا سکے۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے اجلاس کے اختتام پر واضح کیا کہ سیاحوں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے تمام فیصلوں پر فوری، مؤثر اور سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور ملاکنڈ ڈویژن آنے والے سیاحوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ سیف اللہ جھیل واقعے کی تحقیقات کیلیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کو 7 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کمیٹی  کو واقعے کی جامع تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ہر پہلو سے معاملے کو دیکھنے کیلیے تکنیکی ماہر کو شامل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔  

from The Express News https://ift.tt/MfcLI1x
Previous Post Next Post

Contact Form